جم[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پیشدادی خاندان کا چوتھا بادشاہ، جمشید۔ "بزم طرب میں وہ سماں بندھا کہ بزم جم و کَے کا نقشہ نظروں کے سامنے کھنچ گیا۔"    ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٦ ) ٢ - حضرت سلیمان علیہ السلام، جم ثانی (جن پری نگیں وغیرہ کے ساتھ)۔ (فرہنگ آنند راج؛ نوراللغات) ٤ - بڑا بادشاہ۔  میں تو ایک بندۂ ناچیز ہوں رد کردۂ خلق کیا عجب ہے جو غلامی میں تری جم ہوتا      ( ١٨٦٤ء، دیوان حافظ ہندی، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں پیشدادی خاندان کے بادشاہ 'جمشید' کے نام کی تخفیف ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں تقریباً اصلی معنی میں مستعمل ہے۔ ١٧٥٤ء میں "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیشدادی خاندان کا چوتھا بادشاہ، جمشید۔ "بزم طرب میں وہ سماں بندھا کہ بزم جم و کَے کا نقشہ نظروں کے سامنے کھنچ گیا۔"    ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٩٦ )

اصل لفظ: جَمْشید
جنس: مذکر